وحدتِ اسلامی؛  وقت کی ضرورت یا رسولِ خدا (ص) کی سنت؟

حوزہ/ دین اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے؛ جو انسان کو اپنے خالق سے تعلق کے ساتھ ساتھ دوسرے انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل، اخوت اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ اسی اسلامی تعلیمات کا ایک بنیادی پہلو وحدتِ امت ہے۔

تحریر: اریبہ فاطمہ کاظمی

حوزہ نیوز ایجنسی|

تمہید

ہفتۂ وحدت کا پیغام

اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جو انسان کو اپنے خالق سے تعلق کے ساتھ ساتھ دوسرے انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل، اخوت اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ اسی اسلامی تعلیمات کا ایک بنیادی پہلو وحدتِ امت ہے۔
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ کی بعثت ایسے زمانے میں ہوئی جب عرب معاشرہ قبائلی تعصبات، نسلی تفاخر، باہمی دشمنیوں اور انتقام کی آگ میں مبتلا تھا۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے برسرِ پیکار تھا، معمولی اختلافات نسلوں تک دشمنی کا سبب بنتے تھے۔ ایسے ماحول میں رسولِ اکرم نے توحید کے پرچم تلے ایک ایسی امت تشکیل دی جس کی بنیاد خون، نسل، زبان یا قبیلہ نہیں بلکہ ایمان، اخوت اور تقویٰ تھی۔

قرآنِ مجید نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:
'وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا'
"اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔"(سورۂ آلِ عمران، 3:103)

یہ آیت صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی وجود کا بنیادی اصول ہے۔ قرآن مسلمانوں کو ان کی مشترکہ شناخت یاد دلاتا ہے اور انہیں اس بات سے روکتا ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو اس حد تک بڑھا دیں کہ ان کی اجتماعی قوت اور اخوت ختم ہو جائے۔

ہفتۂ وحدت اسی قرآنی اور نبوی پیغام کی یاد دہانی کا ایک اہم موقع ہے۔ یہ ہمیں رسولِ اکرم کی ولادتِ باسعادت کی خوشی کے ساتھ ساتھ یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے نبی کی امت ہونے کا حق کس حد تک ادا کر رہے ہیں؟

کیا ہم صرف نام کے اعتبار سے امتِ محمد ہیں، یا ہمارے اخلاق، ہمارے رویے اور ہمارے باہمی تعلقات بھی سیرتِ محمدی کی عکاسی کرتے ہیں؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آج امتِ مسلمہ علمی، سیاسی، معاشی اور سماجی اعتبار سے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان چیلنجز کے درمیان سب سے بڑا نقصان اس وقت ہوتا ہے جب مسلمان اپنے ہی بھائی کو اپنا مخالف سمجھنے لگتے ہیں۔
یہاں وحدت کا حقیقی مفہوم سمجھنا ضروری ہے۔
وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مسلمان اپنے تمام فقہی، کلامی یا فکری اختلافات ختم کر دیں۔ اختلافِ رائے انسانی فکر کا حصہ ہے اور علمی اختلاف صدیوں سے اسلامی علمی روایت کا حصہ رہا ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف تعصب، نفرت، تکفیر، تحقیر اور دشمنی میں تبدیل ہو جائے۔
اسلامی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے اپنے علمی اور اعتقادی موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے ایمان، جان، مال، عزت اور اسلامی اخوت کا احترام کریں۔
اسی لیے ہفتۂ وحدت ہمیں صرف ایک دوسرے کے قریب آنے کی دعوت نہیں دیتا بلکہ ہمیں اپنے اندر موجود تعصب، نفرت اور تفرقے کے رویوں کا محاسبہ کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

اور شاید یہی اس پورے موضوع کا سب سے اہم سوال ہے:

اگر رسولِ اکرم نے دشمن قبائل کو بھائی بھائی بنا دیا تھا تو کیا ہم ان کی امت ہو کر اپنے مسلمان بھائیوں سے معمولی اختلاف کی وجہ سے دور ہو سکتے ہیں؟

یہ مضمون اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی ایک کوشش ہے کہ وحدتِ اسلامی محض موجودہ حالات کی ضرورت ہے یا یہ خود سنتِ رسولِ اکرم اور تعلیماتِ قرآن کا بنیادی تقاضا ہے؟

ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ولایتِ امیرالمؤمنین علیؑ اور محبت و اتباعِ اہلِ بیتؑ کو وحدتِ امت کے تناظر میں کس طرح سمجھا جائے، کیونکہ مکتبِ اہلِ بیتؑ میں ولایت محض ایک تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ دین، ہدایت اور معرفت کا بنیادی حصہ ہے۔
لہٰذا اس بحث کا مقصد کسی مسلک کی نفی یا کسی دوسرے کی تائید نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہتے ہوئے امتِ محمد کے ساتھ وحدت، احترام اور خیرخواہی کیسے قائم رکھی جا سکتی ہے۔

وحدتِ اسلامی کا قرآنی تصور

قرآنِ مجید نے مسلمانوں کو ایک ایسی امت کے طور پر متعارف کرایا ہے جس کی بنیاد توحید، ایمان اور اخوت پر قائم ہے۔ قرآن کا خطاب صرف فرد سے نہیں بلکہ پوری امت سے بھی ہے۔ اسی لیے قرآن جہاں عبادات کی تعلیم دیتا ہے، وہیں اجتماعی زندگی کے اصول بھی بیان کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:'إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ'"مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔"(سورۂ حجرات، 49:10)
یہاں قرآن نے مؤمنین کے درمیان تعلق کو صرف دوستی یا معاشرتی تعلق نہیں کہا بلکہ اخوت قرار دیا ہے۔
اخوت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے مسلمان کی خوشی میں خوشی محسوس کی جائے، اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جائے، اس کی عزت کی حفاظت کی جائے اور اختلاف کی صورت میں اصلاح کی کوشش کی جائے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:'وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ'"اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔"
(سورۂ انفال، 8:46)

یہ آیت وحدت کی ایک نہایت اہم حقیقت سامنے لاتی ہے:

باہمی اختلاف صرف دلوں کو نہیں توڑتا، بلکہ امت کی اجتماعی قوت کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔
لہٰذا قرآن کی نظر میں وحدت محض ایک خوبصورت تصور نہیں بلکہ امت کی بقا اور قوت کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔

لیکن یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے:

وہ "اللہ کی رسی" کیا ہے جسے مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا گیا ہے؟

مفسرین نے اس کے مختلف مصادیق بیان کیے ہیں، جن میں قرآن، دینِ الٰہی اور اللہ کے عہد جیسے مفاہیم شامل ہیں۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ کی روایات میں قرآن اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی کو بھی ہدایت کے اسی راستے سے مربوط کیا گیا ہے۔

رسولِ اکرم؛ امت کے مرکزِ وحدت

اگر قرآنِ مجید نے امت کو وحدت، اخوت اور باہمی تعاون کا حکم دیا ہے تو رسولِ اکرم نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں ان تعلیمات کو عملی شکل دے کر دکھایا۔ آپ نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل فرمائی جہاں مختلف قبائل، نسلیں، طبقات اور معاشرتی پس منظر رکھنے والے افراد ایک مشترک ایمان اور مقصد کے تحت جمع ہوئے۔
بعثتِ نبوی سے قبل عرب معاشرہ قبائلی عصبیت کا شکار تھا۔ انسان کی عزت و حیثیت کا معیار اکثر اس کا قبیلہ، خاندان اور نسب تھا۔ رسولِ اکرم نے اس تصور کو بدل کر تقویٰ اور کردار کو معیارِ فضیلت قرار دیا۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:'يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ'"اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔"
(سورۂ حجرات، 49:13)
یہ آیت انسانی مساوات اور اسلامی اخوت کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ قوم، قبیلہ، زبان اور رنگ انسانی تعارف کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ کے نزدیک اصل معیار تقویٰ ہے۔

مدینہ؛ وحدتِ امت کی عملی مثال

رسولِ اکرم نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت قائم فرمائی۔ مہاجرین اپنا گھر، مال اور وطن چھوڑ کر آئے تھے، جبکہ انصار نے انہیں صرف مہمان سمجھ کر جگہ نہیں دی بلکہ اپنے بھائیوں کی طرح قبول کیا۔
قرآن انصار کی اس عظیم صفت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
'وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ'
"اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود انہیں سخت ضرورت ہی کیوں نہ ہو۔"(سورۂ حشر، 59:9)

یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ وحدت کا عملی فلسفہ ہے۔
وحدت صرف یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آئیں؛ وحدت یہ ہے کہ ہم ضرورت کے وقت ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوں۔
رسولِ اکرم نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں مختلف طبقات کے درمیان باہمی ذمہ داری، عدل اور امن کا تصور پیدا ہوا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبوی وحدت جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک منظم اجتماعی نظام تھا۔

وحدت اور اخلاقِ نبوی

رسولِ اکرم کی وحدت کی بنیاد صرف سیاسی مصلحت نہیں تھی بلکہ اخلاق تھی۔
آنحضرت نے لوگوں کو جوڑنے کے لیے ان کے دلوں کو بدلنے پر توجہ دی۔ دشمنی کی جگہ اخوت، انتقام کی جگہ عفو، تکبر کی جگہ تواضع اور تعصب کی جگہ تقویٰ کو فروغ دیا۔
یہی وجہ ہے کہ سیرتِ نبوی ہمیں بتاتی ہے کہ کسی معاشرے کو متحد رکھنے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں ہوتے؛ دلوں کی اصلاح بھی ضروری ہوتی ہے۔
آج ہم بھی امت کی وحدت چاہتے ہیں، لیکن اگر دل میں دوسرے مسلمان کے لیے تحقیر، بدگمانی اور نفرت موجود ہو تو صرف وحدت کے نعرے ہماری منزل نہیں بدل سکتے۔

وحدت کا پہلا میدان: ہمارا اپنا کردار

رسولِ اکرم کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ امت کی اصلاح ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ علماء متحد ہوں، مسالک متحد ہوں، مسلم ممالک متحد ہوں اور پوری امت ایک ہو۔

لیکن ہمیں خود سے بھی پوچھنا چاہیے:

کیا ہم اپنے گھر میں اختلاف برداشت کرتے ہیں؟
کیا ہم دوسرے مسلمان کے نقطۂ نظر کو سننے کے لیے تیار ہیں؟
کیا ہم سوشل میڈیا پر کسی دوسرے مکتبِ فکر کے خلاف غیر ضروری مواد پھیلانے سے خود کو روک سکتے ہیں؟
کیا ہم اختلاف کے باوجود اپنے مسلمان بھائی کی عزت کر سکتے ہیں؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو ہم نے وحدت کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔

ولایتِ امیرالمؤمنین علیؑ اور وحدتِ امت

یہاں ہمارے موضوع کی ایک نہایت اہم اور حساس جہت سامنے آتی ہے۔
اگر ہم وحدتِ امت کی بات کرتے ہیں تو ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور اہلِ بیتؑ کے مقام کو کیسے بیان کریں؟
مکتبِ اہلِ بیتؑ میں حضرت علیؑ کی ولایت اور امامت بنیادی اعتقادی موضوع ہے۔ اس لیے وحدت کے نام پر اس عقیدے کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔
لیکن دوسری طرف ولایت کو ایسے انداز میں بیان کرنا کہ وہ مسلمانوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کا ذریعہ بن جائے، یہ بھی اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روح کے مطابق نہیں۔
لہٰذا ہمیں ولایت اور وحدت کے تعلق کو صحیح زاویے سے سمجھنا ہوگا۔

غدیر؛ ولایت کا اعلان

رسولِ اکرم نے غدیرِ خم کے مقام پر حضرت علیؑ کے بارے میں فرمایا:'مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ'"جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔"
یہ روایت جامع ترمذی، حدیث 3713 میں موجود ہے اور امام ترمذی نے اسے حسن غریب قرار دیا ہے۔
یہاں مکتبِ اہلِ بیتؑ کے نزدیک "مولا" سے مراد ولایت اور قیادت کا وہ مقام ہے جو رسولِ اکرم نے حضرت علیؑ کے لیے بیان فرمایا۔
لیکن غدیر کا پیغام صرف حضرت علیؑ کی ولایت کے اعلان تک محدود نہیں۔ غدیر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دین کی قیادت، ہدایت اور حق کے ساتھ وابستگی کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔

ولایت کا حقیقی اثر

اگر ولایت صرف زبان کا دعویٰ رہ جائے اور ہمارے اخلاق، کردار اور معاشرتی رویے میں اس کا اثر ظاہر نہ ہو تو ہم نے ولایت کے حقیقی مقصد کو نہیں سمجھا۔
حضرت علیؑ کی زندگی میں ہمیں عدل، تقویٰ، علم، شجاعت، صبر، ایثار اور انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک نظر آتا ہے۔
لہٰذا علیؑ کی ولایت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
حق پر قائم رہو، مگر ظلم نہ کرو۔
اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہو، مگر اخلاق نہ چھوڑو۔
اختلاف کرو، مگر انصاف کے دائرے سے باہر نہ نکلو۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ولایت اور وحدت ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔

اہلِ بیتؑ سے تعلق اور حدیثِ ثقلین

رسولِ اکرم نے غدیرِ خم کے موقع پر قرآن اور اپنے اہلِ بیتؑ کے بارے میں امت کو خصوصی توجہ دلائی۔ صحیح مسلم کی روایت میں حضرت زید بن ارقمؓ سے منقول ہے کہ رسولِ اکرم نے قرآن کو اللہ کی کتاب قرار دیتے ہوئے اہلِ بیتؑ کے بارے میں امت کو یاد دہانی کرائی۔ (صحیح مسلم، حدیث 2408)
مکتبِ اہلِ بیتؑ میں اسی نسبت کو ہدایت کے تسلسل کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
یعنی رسولِ اکرم کے بعد امت کے لیے قرآن کے ساتھ اہلِ بیتؑ کی معرفت، محبت اور اتباع بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

یہاں ایک خوبصورت نکتہ سامنے آتا ہے:

قرآن ہمیں جوڑتا ہے، رسول ہمیں جوڑتے ہیں، اور اہلِ بیتؑ ہمیں اس قرآن و سنت کے حقیقی اخلاق کو اپنی زندگی میں اتارنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔
پس اہلِ بیتؑ سے محبت اور امت کی وحدت کو ایک دوسرے کا مخالف سمجھنا ضروری نہیں۔
بلکہ حقیقی محبتِ اہلِ بیتؑ ہمیں عدل، اخلاق، صبر، بصیرت اور امت کی خیرخواہی کی طرف لے جاتی ہے۔

سوال

کیا اختلافِ عقیدہ اور وحدت ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

یہاں ہم واضح کریں گے کہ وحدت کا مطلب عقیدہ چھوڑ دینا نہیں، اور یہ بھی کہ شیعہ مسلمان اپنے عقیدۂ ولایت و امامت پر قائم رہتے ہوئے پوری امتِ مسلمہ کے ساتھ کس بنیاد پر وحدت قائم کر سکتے ہیں۔

اختلافِ عقیدہ اور وحدتِ امت؛ کیا دونوں ساتھ چل سکتے ہیں؟

وحدتِ اسلامی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے:

اگر مسلمانوں کے درمیان عقائد، فقہ اور تاریخ کے بعض مسائل میں اختلاف موجود ہے تو پھر وحدت کیسے ممکن ہے؟
یہ سوال بظاہر مشکل ہے، لیکن اس کا جواب اسلامی تعلیمات اور تاریخِ اسلام دونوں میں موجود ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وحدت کا مطلب یکسانیت نہیں۔
یکسانیت کا مطلب یہ ہے کہ سب لوگ ہر مسئلے میں ایک ہی رائے رکھیں، جبکہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے بنیادی حقوق، عزت اور اسلامی تعلق کو تسلیم کیا جائے۔
اسلامی تاریخ میں فقہی اور علمی اختلافات موجود رہے ہیں، لیکن ہر اختلاف نے امت کو لازماً دشمنی میں مبتلا نہیں کیا۔ علمی اختلاف اس وقت تک رحمت اور علمی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے جب تک وہ ادب، انصاف اور دلیل کے دائرے میں رہے۔

اپنے عقیدے سے دست برداری وحدت نہیں

بعض اوقات وحدت کے نام پر یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمان اپنے اعتقادی اختلافات کو بیان ہی نہ کریں۔
یہ وحدت نہیں۔
ایک مسلمان کو اپنے عقیدے پر ایمان رکھنے اور اسے دلیل کے ساتھ بیان کرنے کا حق حاصل ہے۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ کے پیروکار کے لیے توحید، نبوت، امامت، ولایتِ امیرالمؤمنین علیؑ اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی اس کے اعتقادی تشخص کا حصہ ہیں۔
لہٰذا وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اپنے عقیدے سے دست بردار ہو جائے۔

بلکہ وحدت کا صحیح مفہوم یہ ہے:

میں اپنے عقیدے پر قائم رہوں، لیکن تمہارے وجود، عزت اور حقِ اختلاف کا احترام بھی کروں۔
یہی علمی وحدت ہے۔

ولایتِ علیؑ؛ وحدت کے راستے میں رکاوٹ نہیں

اگر ہم ولایتِ امیرالمؤمنین علیؑ کو صرف ایک اختلافی تاریخی مسئلہ سمجھیں گے تو شاید وحدت اور ولایت ایک دوسرے کے مقابل دکھائی دیں۔
لیکن اگر ولایت کو ہدایت، عدل، تقویٰ، علم اور حق شناسی کے زاویے سے دیکھیں تو معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔
حضرت علیؑ کی شخصیت صرف ایک مکتبِ فکر کا سرمایہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ان کا علم، عدل، شجاعت، عبادت اور کردار اسلامی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
لہٰذا اہلِ بیتؑ کی محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ہر دوسرے مسلمان کو اپنا دشمن سمجھیں۔
بلکہ تقاضا یہ ہے کہ ہم علیؑ کے عدل کو اپنے کردار میں، علیؑ کے علم کو اپنی فکر میں، علیؑ کے تقویٰ کو اپنی زندگی میں اور علیؑ کی شجاعت کو حق کے دفاع میں ظاہر کریں۔
یہی ولایت کا زندہ اور عملی مفہوم ہے۔

اختلافِ رائے اور تفرقہ؛ ایک اہم فرق

یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے کہ:
ہر اختلاف تفرقہ نہیں ہوتا۔
ایک طالب علم اپنے استاد سے سوال کر سکتا ہے۔
ایک عالم دوسرے عالم سے علمی اختلاف کر سکتا ہے۔
ایک مسلمان کسی فقہی مسئلے میں دوسرے مسلمان سے مختلف رائے رکھ سکتا ہے۔
یہ سب علمی اختلافات ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اختلافِ رائے کو اختلافِ دل بنا لیتا ہے۔
جب دوسرا مسلمان صرف اس لیے برا لگنے لگے کہ وہ میرے مکتبِ فکر سے تعلق نہیں رکھتا؛
جب دلیل کی جگہ گالی لے لے؛
جب تحقیق کی جگہ افواہ لے لے؛
جب مکالمے کی جگہ نفرت لے لے؛
اور جب اختلاف کی بنیاد پر دوسرے مسلمان کی نیت، ایمان اور کردار پر حملہ شروع ہو جائے—
تو یہ علمی اختلاف نہیں بلکہ تفرقہ ہے۔

قرآنِ مجید نے واضح طور پر فرمایا:'وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ'"آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری قوت جاتی رہے گی۔"(سورۂ انفال، 8:46)
یہاں قرآن ہمیں صرف اختلاف سے نہیں بلکہ نزاع اور باہمی کشمکش سے روکتا ہے۔
اس لیے علمی اختلاف کو ادب کے ساتھ قبول کرنا اور تفرقے سے بچنا اسلامی وحدت کا بنیادی اصول ہے۔

اہلِ بیتؑ کی نسبت اور امتِ محمد

ہفتۂ وحدت کے موضوع میں اہلِ بیتؑ کا ذکر نہ ہو تو بحث ادھوری رہ جاتی ہے۔
رسولِ اکرم کی ذاتِ مبارکہ پوری امت کے لیے مرکزِ محبت و ہدایت ہے، اور اہلِ بیتؑ سے محبت بھی اسلامی روایت کا اہم حصہ ہے۔
مکتبِ اہلِ بیتؑ کے نزدیک رسولِ اکرم کے بعد ہدایت کا تسلسل امامتِ اہلِ بیتؑ کے ذریعے قائم رہتا ہے۔ امیرالمؤمنین علیؑ کے بعد ائمہ اہلِ بیتؑ اس سلسلۂ ہدایت کے وارث ہیں۔
یہ نسبت صرف خاندانی نسبت نہیں بلکہ علم، ہدایت، تقویٰ اور دینی رہنمائی کی نسبت ہے۔
اسی لیے اہلِ بیتؑ کی معرفت انسان کو قرآن و سنت کی گہری سمجھ کی طرف لے جاتی ہے۔

ائمہ اہلِ بیتؑ؛ اختلاف کے باوجود امت کی خیرخواہی

ائمہ اہلِ بیتؑ کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو ایک نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے: انہوں نے اپنے ماننے والوں کی دینی تربیت ضرور کی، اپنے حقِ امامت کو واضح ضرور کیا، لیکن ساتھ ہی امت کے وسیع تر مفاد اور مسلمانوں کے اجتماعی حالات کو بھی نظر انداز نہیں کیا..
امیرالمؤمنین علیؑ کی زندگی میں ہمیں ایسے مواقع ملتے ہیں جہاں انہوں نے امت کے وسیع تر مفاد، اسلام کی بقا اور مسلمانوں کے اجتماعی مستقبل کو پیشِ نظر رکھا۔

یہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔
حق پر قائم رہنا اور امت کی خیرخواہی کرنا ایک دوسرے کی ضد نہیں۔
یہی اصول آج بھی ہماری ضرورت ہے۔
ہم اپنے عقیدۂ ولایت و امامت پر قائم رہ سکتے ہیں، اہلِ بیتؑ کے فضائل بیان کر سکتے ہیں، ان کی سیرت پڑھ سکتے ہیں اور ان سے محبت کر سکتے ہیں، لیکن اس سب کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ عدل، حسنِ اخلاق اور خیرخواہی بھی قائم رکھ سکتے ہیں۔

آج کے دور میں وحدت کی سب سے بڑی ضرورت

آج امتِ مسلمہ کو صرف بیرونی دشمنوں سے خطرہ نہیں بلکہ اندرونی تقسیم بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
فرقہ واریت اب صرف مناظروں یا کتابوں تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا نے اسے ہر گھر اور ہر موبائل تک پہنچا دیا ہے۔

ایک مختصر ویڈیو، ایک اشتعال انگیز جملہ یا ایک غیر مستند تاریخی دعویٰ چند منٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں قرآن کا یہ اصول پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے:
"فَتَبَيَّنُوا"
"تحقیق کر لیا کرو۔"
(سورۂ حجرات، 49:6)
آج ہمیں ہر خبر، ہر روایت اور ہر دعوے کے بارے میں تحقیق کی ضرورت ہے۔
خصوصاً مذہبی موضوعات میں۔
کیونکہ کبھی ہم جس چیز کو "دینی غیرت" سمجھ کر آگے بڑھاتے ہیں، وہ حقیقت میں کسی دوسرے مسلمان کے دل کو زخمی کرنے والی چیز ہوتی ہے۔
اور کبھی جس روایت کو ہم برسوں سے بیان کرتے آئے ہیں، اس کا اصل ماخذ ہی موجود نہیں ہوتا۔

لہٰذا

تحقیق کے بغیر دین کی خدمت نہیں ہو سکتی۔
اور

اخلاق کے بغیر علم امت کو نہیں جوڑ سکتا۔

سوشل میڈیا، فرقہ واریت اور ہماری ذمہ داری

آج کا دور معلومات کا دور ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی حصے کی خبر ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل تک پہنچ جاتی ہے۔ علم کے پھیلاؤ کے لیے یہ ایک عظیم موقع ہے، لیکن یہی ذریعہ اگر بے احتیاطی سے استعمال ہو تو اختلاف، بدگمانی اور فرقہ واریت کو بھی تیزی سے پھیلا سکتا ہے۔
خاص طور پر مذہبی اختلافات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایسے مواد کی بھرمار ہے جو جذبات کو بھڑکاتا ہے، مگر تحقیق اور علمی دیانت سے خالی ہوتا ہے۔
ایک مختصر کلپ پورے تاریخی واقعے کا متبادل بن جاتا ہے، ایک غیر مستند روایت کو حدیث سمجھ لیا جاتا ہے، اور کسی عالم یا مکتبِ فکر کے بارے میں ایک جملہ پوری جماعت کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
قرآن ہمیں خبر کے معاملے میں واضح اصول دیتا ہے:'يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا:
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔"(سورۂ حجرات، 49:6)

یہ آیت آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمارے لیے ایک مکمل اخلاقی اصول بن سکتی ہے۔
ہر چیز جو ہمارے سامنے آئے، ضروری نہیں کہ اسے آگے بھی پہنچایا جائے۔
کبھی ایک پوسٹ کو روک دینا بھی وحدت کی خدمت ہے۔
کبھی کسی اشتعال انگیز ویڈیو پر تبصرہ نہ کرنا بھی دینی بصیرت ہے۔
کبھی کسی دوسرے مکتبِ فکر کے بارے میں اپنی لاعلمی تسلیم کر لینا بھی علم کی علامت ہے۔
اور کبھی یہ کہنا کہ:
"مجھے اس بارے میں تحقیق نہیں، اس لیے میں فیصلہ نہیں دے سکتا"
ایک مسلمان کے علمی کردار کی نشانی ہے۔

علماء اور خطباء کی ذمہ داری

امت کی فکری تربیت میں علماء، خطباء اور دینی رہنماؤں کا کردار بنیادی ہے۔
منبر صرف معلومات دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ دلوں اور کرداروں کی تربیت کا مرکز ہے۔
ایک عالم کا ایک جملہ کسی انسان کو دین کے قریب کر سکتا ہے، اور ایک غیر محتاط جملہ کسی دل میں برسوں کی نفرت پیدا کر سکتا ہے۔
لہٰذا مذہبی گفتگو میں تین چیزیں ضروری ہیں:
علم، انصاف اور اخلاق۔
اختلافی مسائل بیان کیے جائیں، لیکن علمی انداز میں۔
اپنے عقائد کی وضاحت کی جائے، لیکن دلیل کے ساتھ۔

دوسرے مکتبِ فکر کے موقف پر گفتگو کی جائے، لیکن اس کی تحقیر کے بغیر۔

کیونکہ اگر ہمارا علم ہمیں تواضع، انصاف اور حسنِ اخلاق نہیں سکھاتا تو ہمیں اپنے علم کے ساتھ اپنے اخلاق کا بھی محاسبہ کرنا چاہیے۔

نوجوان نسل اور وحدت

امت کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔
اگر نوجوان کو دین کا علم دلیل، تحقیق اور اخلاق کے ساتھ دیا جائے گا تو وہ امت کو جوڑنے والا بنے گا۔
لیکن اگر اسے صرف نفرت، تعصب اور دوسرے مکتبِ فکر کے خلاف جذبات دیے جائیں گے تو وہ انجانے میں امت کے درمیان مزید فاصلے پیدا کر سکتا ہے۔
اس لیے نوجوانوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ:
اپنے عقیدے کو سمجھو۔
اپنے مکتب کے معتبر مصادر کا مطالعہ کرو۔
دوسرے مکاتبِ فکر کے بارے میں بھی براہِ راست اور معتبر ذرائع سے جانو۔
ہر سوشل میڈیا دعوے کو حقیقت نہ سمجھو۔
اختلاف کو برداشت کرنا سیکھو۔
دلیل کا جواب دلیل سے دو۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے اخلاق کو اپنے عقیدے کا آئینہ بناؤ۔
جس نوجوان کے ہاتھ میں علم ہو اور دل میں اخلاق، وہ امت کے لیے خطرہ نہیں بلکہ سرمایہ بن جاتا ہے۔

وحدت کا آغاز کہاں سے ہو؟

ہم اکثر کہتے ہیں کہ پوری امت کو متحد ہونا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے:
پوری امت کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

امت ہمارے گھر سے شروع ہوتی ہے۔
ہمارے مدرسے سے۔
ہماری مسجد سے۔
ہمارے دوستوں سے۔

ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے۔

بلکہ کبھی کبھی امت کی وحدت صرف اس ایک لمحے سے شروع ہوتی ہے جب ہم کسی ایسے شخص کو معاف کر دیتے ہیں جس سے ہمارا اختلاف ہو۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے مسلمان ایک دوسرے کے قریب آئیں تو ہمیں پہلے اپنے دلوں میں موجود چھوٹی چھوٹی نفرتوں کو ختم کرنا ہوگا۔
وحدت کا پہلا میدان دنیا نہیں، انسان کا اپنا دل ہے۔

ہفتۂ وحدت؛ ایک ہفتہ نہیں، ایک عہد

ہفتۂ وحدت ہر سال آتا ہے۔
ہم محافل منعقد کرتے ہیں۔
سیرتِ رسول بیان کرتے ہیں۔
درود و سلام پڑھتے ہیں۔
محبتِ رسول کا اظہار کرتے ہیں۔

لیکن ہفتۂ وحدت کا اصل سوال شاید یہ ہے:

کیا یہ محبت ہماری زندگی میں بھی نظر آتی ہے؟
اگر ہم رسولِ اکرم سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اخلاق کو بھی اپنانا ہوگا۔
اگر ہم اہلِ بیتؑ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کی سیرت کو بھی اپنی زندگی میں جگہ دینی ہوگی۔
اگر ہم قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں تو ہمیں اس کے احکامِ اخوت اور عدمِ تفرقہ کو بھی قبول کرنا ہوگا۔
لہٰذا ہفتۂ وحدت کو صرف ایک تقریب نہ بنائیں۔
اسے ایک عہد بنائیں۔
ایسا عہد جس میں ہم کہیں: میں اپنے عقیدے سے دست بردار نہیں ہوں گا، لیکن دوسرے مسلمان کی عزت بھی نہیں چھوڑوں گا۔

میں اپنے موقف کو بیان کروں گا، لیکن نفرت نہیں پھیلاؤں گا۔
میں اہلِ بیتؑ سے محبت کروں گا اور ان کے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کروں گا۔
میں قرآن کو پڑھوں گا اور اس کے پیغامِ اخوت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کروں گا۔
میں غیر مصدقہ خبر کو آگے بڑھانے کے بجائے تحقیق کروں گا۔
اور جہاں ممکن ہوگا، میں نفرت کے بجائے محبت، تقسیم کے بجائے وحدت اور تعصب کے بجائے علم کا انتخاب کروں گا۔

اختتامیہ: ہم امتِ محمد ہیں

ہم ایک ایسے رسول کی امت ہیں جنہوں نے دشمن قبائل کو بھائی بھائی بنا دیا۔
ہم ایک ایسے قرآن کے ماننے والے ہیں جو ہمیں تفرقے سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔
ہم ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں جو مؤمنین کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے۔
اور ہم اہلِ بیتؑ سے محبت کرنے والے ہیں، جن کی زندگیاں حق، عدل، صبر، تقویٰ، علم اور انسانیت کی روشن مثالیں ہیں۔
تو پھر ہمارے لیے وحدت کوئی وقتی سیاسی ضرورت کیسے ہو سکتی ہے؟
وحدت ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
لیکن وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے عقائد بھول جائیں۔
نہیں۔
ہم اپنے عقیدے پر قائم رہیں گے۔
ہم ولایتِ امیرالمؤمنین علیؑ کو مانیں گے۔
ہم ائمہ اہلِ بیتؑ کی معرفت اور محبت کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھیں گے۔
ہم اپنے مکتب کے عقائد کو دلیل اور علم کے ساتھ بیان کریں گے۔
لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی سمجھیں گے کہ:
اپنے عقیدے پر مضبوط ہونا اور دوسرے مسلمان کے ساتھ بد اخلاق ہونا ایک ہی چیز نہیں۔
ولایت کا مطلب نفرت نہیں۔
علم کا مطلب تکبر نہیں۔
اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں۔
اور وحدت کا مطلب اپنے عقیدے سے دست برداری نہیں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنے عقیدے میں مضبوط، اپنی دلیل میں واضح، اپنے اخلاق میں نرم اور پوری امت کے لیے خیرخواہ ہوں۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ولایت، محبت، قرآن، سنت اور وحدت ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔

آخری سوال

ہفتۂ وحدت ختم ہو جائے گا۔
محفلیں ختم ہو جائیں گی۔
تقریریں ختم ہو جائیں گی۔
پوسٹر اتر جائیں گے۔
لیکن اگر ہمارے دل ویسے ہی رہ گئے تو ہم نے کیا حاصل کیا؟
اس لیے اس سال ہفتۂ وحدت پر صرف جشن نہ منائیں۔
اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کریں۔
کسی ایک مسلمان کو معاف کریں۔
کسی ایک غلط فہمی کو ختم کریں۔
کسی ایک نفرت انگیز پوسٹ کو آگے بڑھانے سے روکیں۔
کسی ایک انسان کے ساتھ اختلاف کے باوجود حسنِ اخلاق سے پیش آئیں۔

اور اپنے دل میں یہ عہد کریں:

ہم امتِ محمد کو توڑنے والے نہیں، جوڑنے والے بنیں گے۔
ہم نفرت کے وارث نہیں، محبت کے سفیر بنیں گے۔
ہم تعصب کے بجائے علم کو، تفرقے کے بجائے وحدت کو، اور نفرت کے بجائے اخلاق کو اختیار کریں گے۔
کیونکہ شاید قیامت کے دن ہم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ ہم نے وحدت پر کتنی تقریریں کیں؛ بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ ہم نے اپنی زندگی میں کتنے دل جوڑے، کتنی نفرتیں کم کیں اور دینِ محمد کی اخلاقی روح کو کتنا زندہ کیا۔

ہفتۂ وحدت صرف ایک ہفتہ نہیں؛ یہ امتِ محمدی کے ساتھ وفاداری کا ایک عہد ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے، رسولِ اکرم کی سیرت پر چلنے، اہلِ بیتؑ سے حقیقی محبت کرنے، اپنے عقیدے میں ثابت قدم رہنے اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خیرخواہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

نکتہ: حدیثِ غدیر کے لیے جامع ترمذی 3713 کا حوالہ درست ہے، جبکہ صحیح مسلم 2408 میں غدیرِ خم کے موقع پر قرآن اور اہلِ بیتؑ کے بارے میں روایت موجود ہے۔

فہرستِ منابع و مصادر

1. قرآنِ مجید، سورۂ آلِ عمران، 3:103؛ سورۂ انفال، 8:46؛ سورۂ حجرات، 49:6، 10، 13؛ سورۂ حشر، 59:9۔
2. محمد بن عیسیٰ الترمذی، الجامع، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن ابی طالبؑ، حدیث 3713۔
3. مسلم بن حجاج نیشاپوری، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل علی بن ابی طالبؑ، حدیث 2408۔
4. احمد بن حنبل، المسند، روایاتِ فضائلِ امیرالمؤمنین علیؑ اور حدیثِ غدیر۔
5. نسائی، خصائص امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، فضائل و مناقبِ امیرالمؤمنین علیؑ۔
6. محمد بن یعقوب کلینی، الکافی، کتاب الحجة، ابوابِ امامت و ولایت۔
7. عبدالحسین امینی، الغدیر فی الکتاب والسنة والادب، مباحثِ حدیثِ غدیر اور مصادرِ حدیث۔
8. سید عبدالحسین شرف الدین، المراجعات، مباحثِ امامت، ولایت اور اہلِ بیتؑ۔
9. سید محمد حسین طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، متعلقہ آیات کی تفسیری مباحث۔
10. ناصر مکارم شیرازی و دیگران، تفسیر نمونہ، متعلقہ قرآنی آیات کی تفسیری مباحث۔
11. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، سیرتِ رسول اکرم اور مدینہ کے اسلامی معاشرے سے متعلق مباحث۔
12. محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم والملوک، متعلقہ تاریخی مباحث۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha